جس تن نوں لگدی او تن جانڈے
جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر20
زجاجہ کو برین ہیمرج ہوا تھا ۔۔۔ ۔ وہ ابھی تک ایمر جنسی میں تھی ۔۔۔۔ اس کی ماما کا رو رو کر برا حال تھا ۔۔۔۔۔ نقاش اور ولید ایمرجنسی سے دور لمبے کاریڈور کے آخری سرے پر کھڑے تھے ۔۔۔۔پچھلے دو گھنٹے سے دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔ ولید دیوار سے ٹیک لگائے بہت گہری سوچ میں تھا ۔۔۔۔ اس کی نظر سامنے والی دیوار پر مرکوز تھی ۔۔۔۔ اس گہری خاموشی کو نقاش کے موبائل کی بیپ نے توڑا ۔۔۔ "جی ۔۔۔ ہم آتے ہیں " کہہ کر اس نے ولید کی طرف دیکھا "فیصل کی کال تھی ۔۔۔۔ بلا رہا ہے ۔۔۔" ولید فورا سیدھا ہوا اور دونوں ڈاکٹر فیصل کے روم کی طرف چل پڑے ۔۔۔۔ "برین ہیمرج شدید نوعیت کا ہے ۔۔۔ لگتا ہے دماغ کو بہت اچانک بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے ۔۔۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔۔آپریٹ کرنا پڑے شاید ۔۔۔ ویسے یہ مس ہیں کون " ڈاکٹر فیصل نے تفصیل بتاتے ہوۓ پوچھا "میری زندگی کی وجہ " اس سے پہلے کے نقاش کوئی مناسب جواب سوچتا ولید بول پڑا ۔۔۔۔ فیصل نے چونک کے ولید کو دیکھا۔۔۔۔۔ اور یوں سر ہلایا جیسے سب کچھ سمجھ گیا ہو ۔۔۔ "ان کے پیرنٹس ؟؟؟" ڈاکٹر فیصل نے اگلا سوال کیا "ادھر ہی ہیں وہ بھی " اس بار نقاش نے جواب دیا "بہتر ہو گا کہ ان کو بھی تمام صورتحال بتا دی جائے " "ٹھیک کہہ رہے ہو تم ۔۔۔۔ بتاتا ہوں میں ان کو " نقاش کہتے ہوئے اٹھ کر باہر چلا گیا "ہر ٹیکنالوجی استعمال کرو ۔۔۔۔ جہاں سے جو چاہئے منگوا لو فیصل ۔۔۔۔ ڈاکٹر ، میڈیسن اینی تھنگ یو نیڈ ۔۔۔۔ دنیا کے جس کونے سے ملتی ہیں منگواؤ ۔۔۔ بس میری زجاجہ کو بچا لو فیصل ۔۔۔۔" ولید کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں "ڈونٹ وری ولید ۔۔۔۔ ہم بہترین علاج کر رہے ہیں ۔۔۔۔ دعا کرو بس " ڈاکٹر فیصل اس کا کندھا تھپک کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔ "میری بیٹی کو کیا ہوا تھا ولید صاحب " سکندر علی نم آنکھیں لئے ولید کے سامنے کھڑے تھے ۔۔۔ ولید کو لگا وہ کبھی سر نہیں اٹھا پائے گا ۔۔۔۔ اس نے ایک نظر ان کو دیکھا اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی ۔۔۔۔ وہ ایک لفظ نہیں بول پایا ۔۔۔۔ بیا ،ثنا ،حیدر اور وقاص ایک بینچ پر بیٹھے تھے ۔۔۔۔ بیا اس وقت سے رو رہی تھی ۔۔۔۔ ولید نے حیدر کو ان سب کو گھر چھوڑنے کا کہا ۔۔۔۔ "بہت دیر ہو چکی ہے ۔۔۔۔ آپ لوگ جاؤ اور دعا کرو زجی کی زندگی کے لئے ۔۔۔۔حیدر آپ بیا اور ثنا کو گھر ڈراپ کر دو ۔۔۔۔وقاص آپ بھی جاؤ اب " " جی سر ۔۔۔۔" کہتے ہوئے وہ سب اٹھ گئے ۔۔۔۔ بیا اور ثنا جاتے ہوۓ زجاجہ کی ماما سے ملیں اور ان کو تسلی دی ۔۔۔۔ زجاجہ کی فیملی سے بھی لوگ آ چکے تھے ۔۔۔۔ ولید کو ادھر کھڑا ہونا مناسب نہیں لگا ۔۔۔ ۔ وہ اٹھ کر باہر آ گیا ۔۔۔۔۔۔ زجاجہ 6 گھنٹے سے بےہوش تھی ۔۔۔۔۔ اس کا بی پی نارمل نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔ ولید کو ہر چیز خاموش لگ رہی تھی ۔۔۔۔ بلکل ساکن ۔۔۔۔ جیسے ہر منظر پر جمود طاری ہو گیا ہو ۔۔۔۔ وہ چلتا چلتا مسجد تک آ گیا ۔۔۔۔۔ بے اختیار اس کے قدم اندر کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔ اس نے وضو کیا اور اپنے رب کے سامنے جھک گیا ۔۔۔ "یا الله مجھے مانگنا نہیں آتا ۔۔۔۔ میں نے آج تک مانگا ہی نہیں اور تو بےتحاشہ دیتا گیا ۔۔۔۔۔ تجھے تجھ سے مانگنے والے پسند ہیں میرے مالک ۔۔۔۔ اور میں اس فہرست میں آتا ہی نہیں ۔۔۔۔ مگر آج میں مانگنے آیا ہوں ۔۔۔۔۔ میرے وہ گناہ بخش دے جو میری دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل ہیں ۔۔۔۔ مجھے میری زجاجہ کی زندگی عطا کر دے ۔۔۔۔ تو دینے والا ہے ۔۔۔۔ میرے پھیلے ہاتھوں پر بھی نظر کرم میرے الله ۔۔۔۔۔ وہ معصوم ہے میرے مالک ۔۔۔۔ تو مجھ سے بہتر جاننے والا ہے ۔۔۔۔ اس پر رحم فرما ۔۔۔۔میری زجی کو زندگی عطا کر ۔۔۔۔ معاف کر دے میرے رحیم ۔۔۔ معاف کر دے " جانے کتنی دیر وہ سجدے میں گرا اپنی عرضی الله پاک کی عدالت میں پیش کرتا رہا ۔۔۔۔ وہاں سے نکل کر وہ پھرہسپتال کے اسی خاموش ٹھنڈے کاریڈور میں آ کر کھڑا ہو گیا جہاں سے کچھ قدم کے فاصلے پر نظر آنے والے بند دروازے کے اس پار اس کی زجاجہ سکندر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی ۔۔۔۔ سکندر صاحب ایک کرسی پر دیوار کے ساتھ سر ٹکائے بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔ ان سے کچھ فاصلے پر زجاجہ کی ماما جائے نماز بچھائے اپنی بیٹی کی زندگی کے لئے دعا مانگ رہی تھیں ۔۔۔۔۔ دو تین اور لوگ بھی تھے جن کو ولید نہیں جانتا تھا ۔ ۔۔۔۔ "انکل ۔۔۔۔ آپ گھر جائیں ۔۔۔۔ آنٹی کو بھی لے جائیں ۔۔۔۔ میں۔ادھر ہی ہوں " اس نے پاس جا کر سکندر صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔۔ انہوں نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور نفی میں گردن ہلا دی ۔۔۔۔ "ولید ٹھیک کہہ رہا ہے انکل ۔۔۔۔ آپ آرام کریں گھر چل کر ۔۔۔ آنٹی کو بھی لے جائیں ۔۔۔۔ آئیں میں چھوڑ کے آتا ہوں آپ کو " نقاش نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا تو وہ اٹھ گئے ۔۔۔۔ "اٹھو حفصہ گھر چلتے ہیں ۔۔۔ ہماری رانی الله پاک کے حوالے ہے ویسے بھی ۔۔۔۔" ولید کو چند گھنٹوں میں وہ بہت ہارے ہوئے لگے ۔۔۔۔ حفصہ چپ چاپ اٹھ گئیں ۔۔۔۔ ایک نظر ایمرجنسی کے بند دروازے پر ڈالی اور اوپر چھت کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ دو آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر ان کے چہرے پر بہہ گئے ۔۔۔۔ ولید نے آگے بڑھ کر انہیں تھام لیا ۔۔۔۔ "محسن تم جاؤ گے یا ادھر ہی رکو گے ؟؟" سکندر صاحب نے وہاں موجود ایک لڑکے سے پوچھا "ہم ادھر ہی ہیں چاچو۔۔۔۔آپ پلیز جا کے تھوڑا آرام کر لیں " محسن نام کا لڑکا قریب آ گیا ۔۔۔ "میں چھوڑ کے آتا ہوں " نقاش کہتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔۔۔ ولید زجاجہ کو دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔ ۔ وہ ڈاکٹر فیصل کے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ "میں دیکھنا چاہتا ہوں زجاجہ کو " ۔۔۔۔ ولید کی بات پر فیصل نے چونک کر اس کی طرف دیکھا "شی از ان ایمرجنسی ولید " فیصل نے جیسے اسے یاد کروایا "آئی نو ۔۔۔۔ بٹ ایون دین آئی وانٹ ٹو سی ہر ۔۔۔۔ پلیز فیصل ۔۔۔ آئی پرامس میں اس سے بات نہیں کروں گا ۔۔۔۔ پلیز ایک بار مجھے جانے دو اس کے پاس " ولید کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں ۔۔۔۔ "اوکے ۔۔۔۔ آؤ میرے ساتھ " فیصل اسے ساتھ لے کر ایمرجنسی کی طرف آ گیا ۔۔۔۔ ایمرجنسی میں ایک کمرے کے سامنے رکتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا "یہ روم ہے زجاجہ کا ۔۔۔۔ لیکن پلیز نو مس ٹیک ۔۔۔۔ اوکے ؟؟؟" "ڈونٹ وری ۔۔۔۔ تھینکس " ولید نے اسے یقین دلایا اور دروازہ کھول کر اندر چلا گیا ۔۔۔۔ سامنے بیڈ پر ایک وجود مشینوں میں جکڑا ہوا پڑا تھا ۔۔۔۔۔ ولید آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا بیڈ کے قریب آ گیا ۔۔۔۔ زجاجہ کو آکسیجن لگا ہوا تھا ۔۔۔۔ اس کی رنگت زرد ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔ کئی آنسو ولید کا چہرہ بھگو گئے ۔۔۔۔ اسے لگا یہ زجاجہ ہے ہی نہیں ۔۔۔۔ اس ہنستی کھلکھلاتی زجاجہ کا تو سایہ تک محسوس نہیں ہو رہا تھا یہاں ۔۔۔ وہ کتنی دیر اس کے اوپر جھکا اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔ پھر پاس رکھے سٹول پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ ولید کی دونوں کہنیاں اس کی ٹانگوں پر ٹکی تھیں ۔۔۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کئے شہادت کی دونوں انگلیاں جوڑ کر ہونٹوں پر رکھے وہ ٹکٹکی باندھے اپنی دیوانی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ میں نے دیکھا تھا اُن دِنوں میں اُسے جب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا اُس کی پلکوں سے نیند چَھنتی تھی اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا اُس کی زُلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا اُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا لوگ پڑھتے تھے خال و خَد اُس کے وہ اَدب کی کتابِ جیسا تھا بولتا تھا زبان خُوشبو کی لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے میں نے دیکھا تھا اُن دِنوں میں اُسے ساری آنکھیں تھیں آئنے اُس کے سارے چہرے میں انتخاب تھا وہ سب سے گُھل مل کے اجنبی رہنا ایک دریا نُما سَراب تھا وہ خواب یہ ہے کہ وہ " حقیقت تھا " یہ حقیقت ہے کوئی خواب تھا وہ دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح صُورت سایہ و سحاب تھا وہ اپنی نیندیں اُسی کی نذر ہُوئیں میں نے پایا تھا رتجگوں میں اُسے میں نے دیکھا تھا اُن دِنوں میں اُسے جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا دل کے خیمے میں رات کرتا تھا رنگ پڑھتے تھے آنچلوں میں اُسے میں نے دیکھا اُن دِنوں میں اُسے یہ مگر دیر کی کہانی ہے یہ مگر دُور کا فسانہ ہے اُس کے میرے ملاپ میں حائل اَب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے اب تو یوں ہے حال اپنا بھی دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے کیا خبر اِن دنوں وہ کیسا ہے؟ میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے ولید نے آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔۔ بہت سے آنسو آنکھوں کے قید خانے سے رہائی پا کر اس کے چہرے میں ہمیشہ کے لئے گم ہو گئے ۔۔۔۔ ۔ڈاکٹر فیصل نے آ کر اسے وہاں سے اٹھایا ۔۔۔۔۔ وہ پتا نہیں کتنی دیر ادھر بیٹھا رہا ۔۔۔۔ وہ اٹھ کر باہر آ گیا ۔۔۔۔ سکندر صاحب اور ان کی مسز کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ آ چکے تھے ۔۔۔۔ نقاش رات کو گھر چلا گیا تھا ۔۔۔۔ ولید نے اسے مما کے پاس رکنے کا کہا تھا ۔۔۔۔ "آنی ہاسپٹل آنے کا کہہ رہی تھیں ۔۔۔۔ ۔ میں نے منع کر دیا ہے کہ ابھی نہ آئیں " نقاش نے اسے بتایا ۔۔۔۔ اس نے محض گردن ہلانے پر اکتفا کیا ۔۔۔۔ زجاجہ کا آپریشن ہو گیا تھا ۔۔۔۔اسے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔ لیکن ڈاکٹرز بہت زیادہ پر امید نہیں تھے ۔۔۔۔سب زجاجہ کے لئے صدقہ خیرات کر رہے تھے ۔۔۔۔ ڈاکٹر فیصل نے ولید کو بلایا ۔۔۔ "زندگی موت بیشک الله کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔ ہم سر توڑ کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔۔ مگر پھر بھی میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ زجاجہ کے پاس وقت تھوڑا ہے ۔۔۔۔ " ڈاکٹر فیصل کے الفاظ ولید پر بم بن کر گرے ۔۔۔۔ "کیا مطلب ہے فیصل ۔۔۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو ۔۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا " ولید ایک ہی سانس میں بہت کچھ بول گیا ۔۔۔۔۔ "میں نے کہا نا زندگی الله کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔ تم دعا کرو ۔۔۔۔ اس کے خزانے میں کمی نہیں " فیصل نے ولید کو امید کا سرا تھمایا ۔۔۔۔ "پلیز یہ بات سکندر انکل کو مت بتانا " ولید نے کہا تو ڈاکٹر فیصل نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔ زجاجہ کے کزنز کو البتہ ڈاکٹر نے بتا دیا ۔۔۔۔ ان میں سے کسی کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ سب پر قیامت گزر رہی تھی ۔۔۔۔ ولید زجاجہ کے کمرے کے دروازے میں لگے شیشے سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ بہت سی باتیں فلم کی طرح ذہن کے پردے پر چل رہی تھیں ۔۔۔۔ "میں نہیں اتنی جلدی مرنے والی ۔۔۔ ابھی تو میں نے آپ کے ساتھ جینا ہے " ایک بار موت کے ذکر پر اس نے شرارت سے آنکھ دبا کر کہا تھا ۔۔۔۔ ولید کی خوبصورت آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا ۔۔۔ "یو نو ولی ۔۔۔۔ میری خواہش کیا ہے ۔۔۔۔ میری خواہش ہے کہ میری قبر پر میرے نام کے ساتھ آپ کا نام آئے اور قیامت والے دن میں آپ کے نام سے پکاری جاؤں " وہ بہت دور خلا میں دیکھتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔ تب ولید نے اس کو گھورا تھا ۔۔۔۔۔ اور آج ولید نے ایک فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔۔ اس نے ایک لمحے کے لئے کچھ سوچا اور تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا ۔۔ ۔ ۔ کچھ دیر بعد وہ مسز یزدانی کے کمرے میں بیٹھا ان سے اپنی زجاجہ کی آخری خواہش پوری کرنے کی اجازت مانگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ "مما آپ جس سے کہیں گی جب کہیں گی میں شادی کر لوں گا ۔۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں ۔۔۔۔ لیکن ابھی مجھے زجاجہ سے شادی کرنے دیں ۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔میں آپ سے اپنی زجاجہ کی خواہش کی بھیک مانگتا ہوں ۔۔۔۔ " وہ ہاتھ جوڑ کے رو پڑا تھا "ولید کیا ہو گیا ھے میرے بچے ۔۔۔۔ الله پاک زجاجہ کو زندگی دے ۔۔۔۔ تم دونوں خوشیاں دیکھو ۔۔۔۔ وہ ٹھیک ہو جائے میں خود جاؤں گی اس کے گھر " مسز یزدانی بیٹے کو گلے لگا کر آبدیدہ ہو گئیں ۔۔۔۔ "نہیں مما ۔۔۔۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں اس کے پاس وقت تھوڑا ھے ۔۔۔۔ میں اسے اس دنیا سے اپنے نام ک ساتھ رخصت کرنا چاہتا ہوں مما ۔۔۔۔ تاکہ وہ آگے میرے نام سے جانی جائے " وہ رو رہا تھا ۔۔۔۔ اپنی جھلی کی خواہش کے لئے ۔۔۔۔ اپنی زجاجہ کے نام کے لئے ۔۔۔ "اٹھو ۔۔۔۔ ہم بات کرتے ہیں سکندر صاحب سے " مما نے کہا تو وہ فورا چہرہ صاف کر کے اٹھ گیا ۔۔ ۔۔۔۔ "یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ولید بیٹا ۔۔۔۔ ۔ زجاجہ ہوش میں نہیں ھے ۔۔۔۔اور آپ شادی کی بات کر رہے ہیں " سکندر صاحب کی حیرانی بجا تھی ۔۔۔۔۔ "پلیز انکل ۔۔۔۔ میں اور زجی ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ زندگی مجھ سے یہ وقت چھین نہ لے ۔۔۔۔ پلیز میری بات مان جائیں ۔۔۔۔ اپنی بیٹی کو خوشی دے دیں " وہ منت کر رہا تھا ۔۔۔۔ سکندر صاحب کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔ مسز یزدانی نے بھی انہیں سمجھایا تو وہ مان گئے ۔۔۔۔ مگر عجیب کشمکش کا شکار تھے ۔۔۔۔ "زجاجہ کو ہوش آ گیا ھے " یہ آواز ہسپتال کے ٹھنڈے برآمدے میں کھڑے ھر اس شخص میں زندگی کی لہر دوڑا گئی جو زجاجہ سکندر کا کچھ لگتا تھا ۔۔۔۔ سکندر علی اور حفصہ سب سے پہلے اندر گئے ۔۔۔۔ وہ بیقرار ہو کر بیڈ کی طرف بڑھے ۔۔۔۔ "پلیز ابھی زیادہ لوگ مت آئیے گا اور باتیں بھی نہیں کرنی زیادہ ۔۔۔۔۔ ان کو آرام کی ضرورت ھے ۔۔۔۔" نرس نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا اور باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔ زجاجہ صرف دیکھ رہی تھی اور گردن کو جنبش دے رہی تھی ۔۔۔۔۔ آکسیجن ماسک ابھی بھی لگا ہوا تھا ۔۔۔۔ سب سے آخر میں ولید گیا ۔۔۔۔ زجاجہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور دیکھے گئی ۔۔۔۔ ولید مسکرا دیا ۔۔۔۔ "کیا دیکھ رہی ھے میری جھلی " وہ بیڈ پر جھکا ۔۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زجاجہ کا ہر درد سمیٹ لے ۔۔۔۔ ہر تکلیف خود پر برداشت کر لے ۔۔۔۔۔ زجاجہ ہلکے سے مسکرائی ۔۔۔۔۔ "کیا خیال ھے تمہاری نیم پلیٹ چینج کروا دوں " ولید نے شرارت کی ۔۔۔۔۔ زجاجہ کی آنکھوں میں ناسمجھی کا تاثر ابھرا ۔۔۔۔ "بتاتا ہوں تھوڑی دیر تک ۔۔۔۔ آرام کرو تم " کہتا ہوا وہ باہر نکل گیا ۔۔۔۔زجاجہ نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔ اور اگلے دو گھنٹوں بعد وہ زجاجہ سکندر سے زجاجہ ولید حسن ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔ ایک انوکھی شادی سر انجام پا چکی تھی ۔۔۔۔ جس کی وجہ سے بہت کم لوگ واقف تھے ۔۔۔۔۔ ولید نے زجاجہ کے بیڈ کے پیچھے لگی پیشنٹ نیم پلیٹ میں بھی اس کا نام تبدیل کروا دیا تھا ۔۔۔۔ "یہ دیکھو زجی " ولید نے زجاجہ کے سامنے وہ پلیٹ کی ۔۔۔ جس پر کالے رنگ سے "زجاجہ ولید حسن " لکھا تھا ۔۔۔ زجاجہ کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس نے مسکرا کر ولید کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ ولید نے اس کا ماتھا چوم لیا ۔